بلیا (اتر پردیش) ،10؍ فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) بی جے پی کی سابق حلیف سہلدیو بھارتیہ سماج پارٹی (سبھاسپا) کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اوم پرکاش راج بھر نے الزام لگایا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر 1400 کروڑ روپئے کا گھوٹالہ ہوا ہے اور کہا کہ رام مندر کے نام پر بی جے پی انتخابات کے لئے رقم اکٹھا کررہی ہے ۔
راج بھر نے الزام لگایا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے روزانہ 100-100 کروڑ روپئے کے عطیات آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آخر مندر کی تعمیر پر کتنا پیسہ خرچ ہوگا ، مندر کی تعمیر کے نام پر 14 سو کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے اور رام کے نام پر بی جے پی آئندہ اسمبلی انتخابات کے لئے فنڈ جمع کررہی ہے۔ مئو سے بی ایس پی اے ایم ایل اے مختار انصاری اور سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد کے خلاف اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے ذریعہ کی جارہی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس کے ذریعے ہندو مسلم سیاست کررہی ہے۔
راج بھر نے کہا کہ مختار انصاری کے خلاف 15 مقدمات ہیں جبکہ مافیا سے سیاستدان بنے برجیش سنگھ کے خلاف 105 مقدمے درج ہیں ۔ دھننجے سنگھ اور ابھے سنگھ کے خلاف 100-100 مقدمات ہیں۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ صرف مختار انصاری اور عتیق احمد ہی بی جے پی حکومت کو کیوں نظر آرہے ہیں؟